ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 41

یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ مَوۡلًی عَنۡ مَّوۡلًی شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ En
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی
En
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) ➊ { يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْـًٔا: مَوْلًى } کا معنی دوست بھی ہے، قریبی رشتہ دار بھی، غلام بھی اور غلام کا مالک بھی۔ یعنی قیامت کے دن کوئی شخص کسی ایسے شخص کے کام نہیں آ سکے گا جس سے اس کی دوستی یا رشتہ داری یا اس کی حمایت حاصل کرنے کا کوئی تعلق ہو۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۰۱) اور سورۂ معارج (۱۰، ۱۱)۔
➋ { وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ:} اور نہ کسی اور طرف سے مدد مل سکے گی۔