ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 59

اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾
نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا۔ En
وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنا دیا
En
عیسیٰ (علیہ السلام) بھی صرف بنده ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان قدرت بنایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59) ➊ { اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ …:} یعنی مسیح علیہ السلام کا اکرام ان کے معبود ہونے کی وجہ سے نہیں، کیونکہ نہ وہ رب تھے نہ رب کے بیٹے، بلکہ صرف عبد بمعنی اللہ کا غلام اور اس کی بندگی کرنے والا ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ قصر قلب ہے، یعنی مسیح وہ کچھ نہیں جو نصاریٰ یا دوسرے مشرک کہہ رہے ہیں، بلکہ وہ صرف بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا ہے۔
➋ { اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ:} ان انعامات میں سے چند انعامات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ کی آیات (۱۱۰ تا ۱۱۵) میں اور سورۂ آلِ عمران کی آیات (۴۵، ۴۶) میں اور دوسری آیات میں فرمایا ہے۔
➌ {وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:} بنی اسرائیل کے لیے مثال بنانے سے مراد ان کے لیے نمونۂ قدرت بنانا ہے کہ انھیں باپ کے بغیر پیدا کیا اور انھیں ایسے معجزات عطا فرمائے جو ان کے زمانے میں کسی کو نہیں ملے، جنھیں دیکھ کر لوگوں کو ان کی نبوت کا یقین ہوتا تھا۔