ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 55

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
پھر جب انھوں نے ہمیں سخت غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔ En
جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور ان سب کو ڈبو کر چھوڑا
En
پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دﻻیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 55) {فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ …:} اس آیت سے ظاہر ہے کہ غصے ہونا اور انتقام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، جیسا کہ راضی ہونا اور انعام دینا اس کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی اور عذاب کے ساتھ بھی انھیں ہلاک کر سکتا تھا، مگر فرعون نے نہروں کے اپنے تحت چلنے پر فخر کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی ہی میں غرق کرکے انتقام لیا۔ عموماً انسان جس چیز پر فخر کرتا ہے اللہ کی طرف سے وہی چیز اس کی ہلاکت کا سامان بن جاتی ہے۔