ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 9

وَ قِہِمُ السَّیِّاٰتِ ؕ وَ مَنۡ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ٪﴿۹﴾
اور انھیں برائیوں سے بچا اور تو جسے اس دن برائیوں سے بچا لے تو یقینا تو نے اس پر مہربانی فرمائی اور یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے
En
انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ، حق تو یہ ہے کہ اس دن تونے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی تو یہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9){ وَ قِهِمُ السَّيِّاٰتِ: قِ وَقٰي يَقِيْ وِقَايَةً} (ض) سے امر کا صیغہ ہے۔ { السَّيِّاٰتِ } (برائیوں) سے مراد برے اعمال و اقوال بھی ہیں اور ان کے برے نتائج بھی۔ یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ سے ایمان والوں کو تمام برائیوں سے بچانے کی بھی دعا کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ان کے برے نتائج سے محفوظ رکھنے کی بھی۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۵)۔