ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 20

وَ اللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَقۡضُوۡنَ بِشَیۡءٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿٪۲۰﴾
اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ لوگ جنھیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کرتے۔ بے شک اللہ ہی تو سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ En
اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
En
اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وه کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے، بیشک اللہ تعالیٰ خوب سنتا خوب دیکھتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) {وَ اللّٰهُ يَقْضِيْ بِالْحَقِّ …:} یعنی اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے راز تک سے واقف ہے، اس لیے وہی حق کے ساتھ فیصلہ کر سکتا ہے اور کرے گا۔ اس کے سوا جنھیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ انھیں کسی کے حال کی کچھ خبر ہے، کیونکہ وہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ دل کے معاملات تو بہت ہی پوشیدہ ہوتے ہیں، اس لیے حق کے ساتھ فیصلہ تو دور کی بات ہے وہ کسی قسم کا فیصلہ بھی نہیں کر سکتے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے بصیر بھی، مخفی سے مخفی معاملات کا علیم و خبیر بھی ہے اور تمام اختیارات کا مالک بھی، اس لیے اس اکیلے کو پکارو اور اسی کی بندگی کرو۔