اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ لوگ جنھیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کرتے۔ بے شک اللہ ہی تو سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
En
اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وه کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے، بیشک اللہ تعالیٰ خوب سنتا خوب دیکھتا ہے
En
(آیت 20) {وَاللّٰهُيَقْضِيْبِالْحَقِّ …:} یعنی اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے راز تک سے واقف ہے، اس لیے وہی حق کے ساتھ فیصلہ کر سکتا ہے اور کرے گا۔ اس کے سوا جنھیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ انھیں کسی کے حال کی کچھ خبر ہے، کیونکہ وہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ دل کے معاملات تو بہت ہی پوشیدہ ہوتے ہیں، اس لیے حق کے ساتھ فیصلہ تو دور کی بات ہے وہ کسی قسم کا فیصلہ بھی نہیں کر سکتے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے بصیر بھی، مخفی سے مخفی معاملات کا علیم و خبیر بھی ہے اور تمام اختیارات کا مالک بھی، اس لیے اس اکیلے کو پکارو اور اسی کی بندگی کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 اس لئے کہ انہیں کسی چیز کا علم ہے نہ کسی پر قدرت، وہ بیخبر بھی ہیں اور بےاختیار بھی، جب کہ فیصلے کے لئے علم اور اختیار دونوں چیزوں کی ضرورت ہے اور یہ دونوں خوبیاں صرف اللہ کے پاس ہیں۔ اس لئے صرف اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے اور وہ یقینا حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، کیونکہ اسے کسی کا خوف ہوگا نہ کسی سے حرص و طمع۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ اور اللہ ہی انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور اللہ کے علاوہ جنہیں [28] یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو کچھ بھی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ بلا شبہ اللہ ہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاللّٰهُیَقْ٘ضِیْبِالْحَقِّ ﴾”اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔“ کیونکہ اس کا قول حق ہے، اس کا حکم شرعی حق ہے اور اس کا حکم جزائی حق ہے۔ اس کا علم محیط ہے، اس نے ہر چیز کو لکھ رکھا ہے اور اس کے پاس ہر چیز محفوظ ہے۔ وہ ظلم، نقص اور تمام عیوب سے پاک ہے۔ وہی ہے جو اپنی قضا و قدر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، جب وہ کوئی چیز چاہتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، جب نہیں چاہتا تو نہیں ہوتی۔ وہ دنیا میں اپنے مومن اور کافر بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور فتح و نصرت کے ذریعے سے اپنے اولیاء اور محبوب بندوں کی مدد کرتا ہے۔ ﴿وَالَّذِیْنَیَدْعُوْنَمِنْدُوْنِهٖ﴾”اور جن کو یہ اس (اللہ) کے سوا پکارتے ہیں۔“ یہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ ﴿لَایَقْضُوْنَبِشَیْءٍ ﴾”وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔“ کیونکہ وہ عاجز اور بے بس ہیں ان میں بھلائی کا ارادہ معدوم اور وہ اس کے فعل کی استطاعت سے محروم ہیں۔ ﴿اِنَّاللّٰهَهُوَالسَّمِیْعُ ﴾ اللہ تعالیٰ ہی تمام آوازوں کو، اختلاف زبان اور اختلاف حاجات کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿الْبَصِیْرُ ﴾”وہ دیکھنے والا ہے۔“ جو کچھ تھا اور جو کچھ ہے، جو کچھ نظر آتا ہے اور جو کچھ نظر نہیں آتا، جسے بندے جانتے ہیں اور جسے بندے نہیں جانتے، سب اس کی نظر میں ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ کی ابتدا میں فرمایا تھا: ﴿وَاَنْذِرْهُمْیَوْمَالْاٰزِفَةِ ﴾”ان کو قریب آنے والے دن (قیامت) سے ڈرائیے۔“ پھر اس کے یہ اوصاف بیان فرمائے جو اس عظیم دن کے لیے تیاری کا تقاضا کرتے ہیں کیونکہ یہ ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والله يقضي بالحقِّ}: لأنَّ قوله حقٌّ وحكمَه الشرعيَّ حقٌّ وحكمَه الجزائيَّ حقٌّ، وهو المحيط علماً وكتابةً وحفظاً بجميع الأشياء، وهو المنزَّه عن الظلم والنقص وسائر العيوب، وهو الذي يقضي قضاءه القدريَّ، الذي إذا شاء شيئاً كان، وما لم يشأ لم يكنْ، وهو الذي يقضي بين عبادِهِ المؤمنين والكافرين في الدنيا ويفصِلُ بينهم بفتح ينصُرُ به أولياءه وأحبابه. {والذين يدعون من دونِهِ}: وهذا شاملٌ لكلِّ ما عُبد من دون الله، {لا يقضون بشيء}: لعجزِهم وعدم إرادتهم للخير واستطاعتهم لفعله. {إنَّ الله هو السميع}: لجميع الأصوات باختلاف اللغات على تفنُّن الحاجات. {البصير}: بما كان، وما يكون، وما يُبْصَرُ، وما لا يُبْصَرُ، وما يعلم العبادُ وما لا يعلمونَ.
قال في أول هاتين الآيتين: {وأنذِرْهم يومَ الآزفة}، ثم وصفها بهذه الأوصاف المقتضيةِ للاستعداد لذلك اليوم العظيم؛ لاشتمالها على الترغيب والترهيب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔