پھر تمھیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، حالانکہ اللہ نے انھیں اس کی وجہ سے الٹا کر دیا جو انھوں نے کمایا، کیا تم چاہتے ہو کہ اس شخص کو راستے پر لے آئو جسے اللہ نے گمراہ کر دیا اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر تو اس کے لیے کبھی کوئی راستہ نہ پائے گا۔
En
تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے
تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہ منافقوں کے بارے میں دو گروه ہو رہے ہو؟ انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اوندھا کر دیا ہے۔ اب کیا تم یہ منصوبے باندھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے گمراه کئے ہوؤں کو تم راه راست پر ﻻکھڑا کرو، جسے اللہ تعالیٰ راه بھلا دے تو ہرگز اس کے لئے کوئی راه نہ پائے گا
En
(آیت 88) یعنی تم ان منافقین کے بارے میں دو گروہ کیوں ہو گئے، تمھیں تو ان کے متعلق ایک رائے پر متفق ہونا چاہیے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احد کے لیے نکلے توکچھ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر راستے ہی سے واپس ہو گئے، ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ کہنے لگا، آپ انھیں قتل کریں اور دوسرا گروہ اس کے خلاف تھا، تو یہ آیت اتری: «{ فَمَالَكُمْفِيالْمُنٰفِقِيْنَفِئَتَيْنِ }» اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طیبہ ہے، یہ گند کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کے گند کو۔“[بخاری، التفسیر، باب: { فما لکم فی المنافقین… }: ۴۵۸۹] شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ حدیث اس آیت کے اسباب نزول میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔