ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 66

وَ لَوۡ اَنَّا کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِیَارِکُمۡ مَّا فَعَلُوۡہُ اِلَّا قَلِیۡلٌ مِّنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ فَعَلُوۡا مَا یُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَشَدَّ تَثۡبِیۡتًا ﴿ۙ۶۶﴾
اور اگر ہم ان پر فرض کر دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو، یا اپنے گھروں سے نکل جائو تو وہ ایسا نہ کرتے مگر ان میں سے تھوڑے اور اگر وہ واقعی اس پر عمل کرتے جو انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا ہوتا۔ En
اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کاربند ہوتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا
En
اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنی جانوں کو قتل کر ڈالو! یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ! تو اسے ان میں سے بہت ہی کم لوگ بجا ﻻتے اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور بہت زیاده مضبوطی واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 66تا68) ➊ ان آیات کا تعلق بھی منافقین سے ہے، ان میں انھیں اخلاص اور ترک نفاق کی ترغیب دی گئی ہے۔ یعنی چاہیے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کیا جائے، (مگر یہ ایسے ہیں کہ) اگر کہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی جانیں ہلاک کر ڈالنے یا اپنے گھر چھوڑ دینے کا حکم دے دیتا تو یہ اسے کب بجا لانے والے تھے، جو حکم ہم نے انھیں دیے ہیں وہ نہایت آسان اور محض ان کی خیر خواہی کے لیے ہیں، نصیحت مانیں اور ان احکام پر چلیں، نفاق جاتا رہے گا، ایمان کامل نصیب ہو گا، اس کو غنیمت سمجھیں۔ (موضح)
➋ ابن عاشور فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ تمہید ہے جہاد کے ان احکام کی جو ساتھ ہی شروع ہو رہے ہیں: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا [النساء: ۷۱] اور ان آیات کے ساتھ مناسبت یہ بھی ہے کہ اگر ہم ان پر ہجرت یا قتال یعنی «{ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ فرض کر دیتے تو بہت کم لوگ اس پر عمل کرتے، لیکن اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور بے شمار اجر کا باعث ہوتا۔ یعنی ابھی تو ایمان کے اعلیٰ مدارج جو اسلام کی کوہان کی چوٹی ہیں، ان کا حکم بھی آنے والا ہے، کجا یہ کہ یہ لوگ فیصلے بھی کہیں اور سے کروانا چاہتے ہیں۔ [التحریر والتنویر]