ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 172

لَنۡ یَّسۡتَنۡکِفَ الۡمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ یَّسۡتَنۡکِفۡ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یَسۡتَکۡبِرۡ فَسَیَحۡشُرُہُمۡ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۷۲﴾
مسیح ہرگز اس سے عار نہ رکھے گا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتے ہی اور جو بھی اس کی بندگی سے عار رکھے اور تکبر کرے تو عنقریب وہ ان سب کو اپنی طرف اکٹھا کرے گا۔ En
مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھتے ہیں) اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا
En
مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بنده ہونے میں کوئی ننگ و عار یا تکبر وانکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو، اس کی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے، اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 172) {لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ ……:} اس آیت میں نصاریٰ اور مشرکین دونوں کے غلط عقیدے کی تردید ہے، کیونکہ نصرانی مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا اور مشرکین فرشتوں کو اﷲ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ دونوں اﷲ کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا بندہ ہونے پر کچھ بھی عار اور شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہی حال ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا کہ جب کوئی شخص آپ کو اﷲ کا بندہ کہتا تو آپ کو بے انتہا خوشی ہوتی۔ کیونکہ اس مالک الملک اور شہنشاہِ مطلق کا بندہ ہونا انتہائی عزت و شرف کا مقام ہے، نہ کہ کسی ذلت و رسوائی کا۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب انوار القلوب میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے بندگی کے مقام سے زیادہ عزت کا کوئی مقام نہیں، اکرم الخلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مقامات پر، جو نہایت عزت کے مقامات ہیں، لفظ عبد یعنی بندہ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے، وہ تین مقام یہ ہیں: (1) نزول وحی۔ دیکھیے کہف: ۱۔ فرقان: ۱۔ نجم: ۱۰۔ حدید: ۹۔ (2) اسراء و معراج۔ دیکھیے بنی اسرائیل: ۱ (3) دعا۔ (دیکھیے جن: ۱۹)