ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 12

وَ لَکُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَکَ اَزۡوَاجُکُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امۡرَاَۃٌ وَّ لَہٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمۡ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ۱۲﴾
اور تمھارے لیے اس کا نصف ہے جو تمھاری بیویاں چھوڑ جائیں، اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمھارے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے، جو انھوں نے چھوڑا، اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں، یا قرض (کے بعد)۔ اور ان کے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے جو تم چھوڑ جائو، اگر تمھاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمھاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لیے اس میں سے آٹھواں حصہ ہے جو تم نے چھوڑا، اس وصیت کے بعد جو تم کر جائو، یا قرض (کے بعد)۔ اور اگر کوئی مرد، جس کا ورثہ لیا جا رہا ہے، ایسا ہے جس کا نہ باپ ہو نہ اولاد، یا ایسی عورت ہے اور اس کا ایک بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں حصے دار ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے، یا قرض (کے بعد)، اس طرح کہ کسی کا نقصان نہ کیا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے تاکیدی حکم ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، نہایت بردبار ہے۔ En
اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے
En
تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اوﻻد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا ہے اور اگر ان کی اوﻻد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وه کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اوﻻد نہ ہو اور اگر تمہاری اوﻻد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جن کی میراث لی جاتی ہے وه مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ {وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ …:} اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمھاری بیویاں مال چھوڑ کر مریں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو تمھیں آدھا مال ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہے، ایک یا زائد بیٹے بیٹیاں یا پوتے یا پڑپوتے، خواہ تم سے یا کسی اور خاوند سے تو تمھیں چوتھا حصہ ملے گا اور اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو تمھاری بیویوں کو چوتھا حصہ ملے گا اور تمھارے فوت ہونے کی صورت میں اگر تمھاری وارث بننے والی اولاد یا اولا کی فرع ہے، پھر وہ خواہ ان بیویوں سے ہے یا کسی اور سے، بہرحال بیویوں کو آٹھواں حصہ ملے گا، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد، پھر بیوی ایک ہو یا زیادہ سب چوتھائی یا آٹھویں حصے میں شریک ہوں گی، اس پر اجماع ہے۔
➋ {يُوْرَثُ كَلٰلَةً:} اگر کوئی مرد یا عورت مر جائے، اس کا نہ والد ہو اور نہ وارث بننے والی اولاد ہو تو اسے کلالہ کہتے ہیں۔ بعض ایسی میت کے وارثوں کو کلالہ کہتے ہیں۔ بہرحال دونوں پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔
➌ {وَ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ:} بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں: (1) عینی یعنی جن کے ماں باپ ایک ہوں۔ (2) علاتی، یعنی جن کا باپ ایک ہو، مائیں مختلف ہوں۔ (3) اخیافی، جن کی ماں ایک ہو اور باپ مختلف ہوں۔ یہاں بالاتفاق اخیافی بھائی بہن مراد ہیں، جیسا کہ ایک قراء ت میں بھی ہے۔
➍ اخیافی بھائی چار احکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں: (1) یہ صرف ماں کی جہت سے ورثہ لیتے ہیں۔ (2) ان میں سے مرد اور عورت کو مساوی حصہ دیا جاتا ہے۔ (3) ان کو صرف میت کے کلالہ ہونے کی صورت میں حصہ ملتا ہے۔ (4) خواہ کتنے ہی ہوں ان کا حصہ ثلث سے زیادہ نہیں ہوتا، مثلاً ایک میت کا شوہر، ماں، دو اخیافی اور دو عینی بھائی موجود ہوں تو جمہور اہل علم کے نزدیک شوہر کو نصف (۲؍۱) ملے گا، ماں کو سدس(۶؍۱) ملے گا اور بقیہ تہائی حصے میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ عینی بھائی بھی شریک ہوں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمہ میں یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ صحابہ میں سے عثمان، ابن مسعود، ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور ائمہ میں سے امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ کا یہی مسلک ہے، البتہ علی رضی اللہ عنہ اخیافی بھائیوں کے اصحاب الفروض ہونے کی وجہ سے دوسرے سگے بھائیوں کو عصبہ ہونے کی وجہ سے محروم قرار دیتے ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس دوسرے مسلک کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر)
➎ {فَهُمْ شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ:} اخیافی بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو مرد ہو یا عورتیں، یا مرد اور عورتیں ملے ہوئے ہوں، سب میں تیسرا حصہ برابر تقسیم کر دیا جائے گا، یعنی یہاں مرد کو عورت پر فضیلت نہیں ہو گی، جیسا کہ آیت میں «شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ» سے معلوم ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ظاہر ہے کہ ایسا فیصلہ محض اجتہاد سے نہیں کیا جا سکتا۔ (ابن کثیر)
➏ {غَيْرَ مُضَآرٍّ:} یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس کا تعلق وصیت اور قرض دونوں سے ہے۔ وصیت میں نقصان پہنچانا ایک تو یہ ہے کہ تہائی مال سے زیادہ وصیت کرے، اس صورت میں تہائی سے زائد وصیت کا نفاذ نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ ورثاء اجازت دے دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی وارث کو مزید رعایت سے زائد مال دلوایا جائے، اس کا بھی اعتبار نہیں ہو گا، الا یہ کہ تمام وارث برضا و رغبت اسے قبول کر لیں۔ قرض میں نقصان پہنچانا یہ ہے کہ محض وارثوں کا حق تلف کرنے کے لیے مرنے والا اپنے ذمے کسی ایسے قرض کا اقرار کرے جو حقیقت میں اس کے ذمے نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وصیت میں نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔ [السنن الکبرٰی للنسائی: 60/10، ح: ۱۱۰۲۶، و سندہ صحیح]