ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 113

وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ وَ رَحۡمَتُہٗ لَہَمَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّضِلُّوۡکَ ؕ وَ مَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَضُرُّوۡنَکَ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمۡ تَکُنۡ تَعۡلَمُ ؕ وَ کَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا ﴿۱۱۳﴾
اور اگر تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا ان کے ایک گروہ نے ارادہ کر لیا تھا کہ تجھے غلطی میں ڈال دیں، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو غلطی میں نہیں ڈال رہے اور تجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا رہے اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر ہمیشہ سے بہت بڑا ہے۔ En
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
En
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ورحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا، مگر دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراه کرتے ہیں، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب وحکمت اتاری ہے اور تجھے وه سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 113) ➊ {وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ …:} اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر یہ تھی کہ آپ کو وحی کے ذریعے سے اصل واقعہ کی حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ ورنہ وہ طائفہ جو بنو ابیرق کا حامی تھا، آپ کو قائل کر کے انھیں بری کرانے ہی والا تھا، اس کا نتیجہ صرف یہی نہ تھا کہ ایک مجرم بچ جاتا اور ایک بے گناہ مجرم بن جاتا، بلکہ اس کے نتائج بہت دور رس تھے، جس سے مسلمانوں کی ساکھ اور کردار مجروح ہو جاتا۔ فرمایا ایسے لوگ درحقیقت اپنی عاقبت برباد کر کے اپنا ہی نقصان کر رہے تھے، آپ کا محافظ خود اللہ تعالیٰ تھا، آپ کو وہ نہ دھوکا دے سکتے تھے نہ آپ کا کچھ نقصان کر سکتے تھے۔
➋ {وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ:} یعنی آپ کو وحی کے ذریعے سے وہ کچھ سکھایا جو آپ جانتے نہ تھے، بلکہ جس کی آپ امید بھی نہ رکھتے تھے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۸، ۴۹)، سورۂ قصص (۸۶)، سورۂ شوریٰ (۵۲) اور سورۂ ہود (۴۹) یہ ہے اللہ کا آپ پر فضل عظیم۔ بعض لوگ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ یہی الفاظ اللہ نے ہر انسان کے متعلق ارشاد فرمائے ہیں: «{ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ [العلق: ۵] اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ پھر ہر انسان کا عالم الغیب ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔