ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 110

وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ یَظۡلِمۡ نَفۡسَہٗ ثُمَّ یَسۡتَغۡفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۱۰﴾
اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے وہ اللہ کوبے حد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔ En
اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا
En
جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ﻇلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وه اللہ کو بخشنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ پائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 110) {وَ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ …:} مزید آیات دیکھیے سورۂ زمر(۵۳، ۵۴) سورۂ فرقان (۶۸ تا ۷۱) اور سورۂ آل عمران (۱۳۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی جب جو کوئی گناہ کرے، پھر اٹھ کر اچھی طرح وضو کرے، پھر اللہ سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا۠ لِذُنُوْبِهِمْ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ [آل عمران: ۱۳۵]اور وہ لوگ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پرظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہ کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون بخشتا ہے۔ [ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی الصلاۃ عند التوبۃ: ۴۰۶]
اس آیت میں ہر قسم کے گناہوں کے نتائج بد سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کی جائے۔ { سُوْٓءًا } وہ گناہ جن سے انسان اپنے علاوہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جیسے جھوٹی شہادت اور بے گناہ کو متہم کرنا اور {اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ} سے ان گناہوں کی طرف اشارہ ہے جن سے انسان صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسے نماز چھوڑنا اور شراب پینا وغیرہ۔