(آیت 57){ اَوْتَقُوْلَلَوْاَنَّاللّٰهَهَدٰىنِيْ …:} یعنی ایسا نہ ہو کہ جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے کہ اس نے مجھے ہدایت نہیں دی، اگر وہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ یہ وہی بات ہے جو زندگی میں کفار کہتے رہے: «لَوْشَآءَاللّٰهُمَاۤاَشْرَكْنَاوَلَاۤاٰبَآؤُنَاوَلَاحَرَّمْنَامِنْشَيْءٍ» [الأنعام: ۱۴۸]”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے۔“ دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۸) اور سورۂ نحل (۳۵) کی تفسیر۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور قرآن بھیج کر اپنی حجت تمام کر دی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔