(آیت 34) ➊ {لَهُمْمَّايَشَآءُوْنَعِنْدَرَبِّهِمْ:} چونکہ وہ دنیا میں وہ کام کر تے رہے جو ان کا رب چاہتا تھا، اس لیے اس کے بدلے میں رب تعالیٰ کے ہاں انھیں وہ کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے، فرمایا: «هَلْجَزَآءُالْاِحْسَانِاِلَّاالْاِحْسَانُ» [الرحمٰن: ۶۰]”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ ➋ { ذٰلِكَجَزٰٓؤُاالْمُحْسِنِيْنَ:} یہاں کچھ عبارت محذوف ہے: {”لِأَنَّهُمْكَانُوْامُحْسِنِيْنَ“} کیونکہ وہ نیکی کرنے والے تھے اور نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ”احسان“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۵۸)، یوسف (۳۶) اور قصص (۱۴ اور ۷۷)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔