(آیت 9) {دُحُوْرًاوَّلَهُمْعَذَابٌوَّاصِبٌ:”دَحَرَيَدْحَرُدَحْرًاوَدُحُوْرًا“} (ف) بھگانا، دفع کرنا۔ {”وَّاصِبٌ“”وَصَبَيَصِبُوُصُوْبًا“} (ض) دائمی ہونا۔ یعنی ان کے لیے دائمی عذاب ہے، کیونکہ دنیا میں بھگانے کے لیے ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔