ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 9

دُحُوۡرًا وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ ۙ﴿۹﴾
بھگانے کے لیے اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔ En
(یعنی وہاں سے) نکال دینے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے
En
بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) {دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ:دَحَرَ يَدْحَرُ دَحْرًا وَ دُحُوْرًا} (ف) بھگانا، دفع کرنا۔ { وَّاصِبٌ وَصَبَ يَصِبُ وُصُوْبًا} (ض) دائمی ہونا۔ یعنی ان کے لیے دائمی عذاب ہے، کیونکہ دنیا میں بھگانے کے لیے ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔