(آیت 67) {ثُمَّاِنَّلَهُمْعَلَيْهَالَشَوْبًامِّنْحَمِيْمٍ: ”شَابَيَشُوْبُشَوْبًا“} (ن) ملانا۔ {”حَمِيْمٍ“} انتہائی گرم پانی، یعنی زقوم کھانے کے بعد انھیں ایسی ہولناک پیاس لگے گی جس کی وجہ سے وہ مجبوراً انتہائی گرم پانی پییں گے، جو ایسا سخت گرم ہو گا کہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا، فرمایا: «وَسُقُوْامَآءًحَمِيْمًافَقَطَّعَاَمْعَآءَهُمْ» [محمد: ۱۵]”اور انھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔“ یہی مضمون سورۂ واقعہ (۵۱ تا ۵۵) میں بھی بیان ہوا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔