(آیت 80) {الَّذِيْجَعَلَلَكُمْمِّنَالشَّجَرِالْاَخْضَرِنَارًا …: ”الْاَخْضَرِ“} سے مراد تروتازہ درخت ہے، جو پانی سے لبریز ہوتا ہے۔ یہ دوبارہ زندگی کی دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اشیاء سے ان کی ضد نکالنے پر قادر ہے، وہ بوسیدہ ہڈیوں سے دوبارہ زندہ انسان بنا دے گا، کیونکہ دیکھو، پانی اور آگ ایک دوسرے کی ضد ہیں، مگر اس نے پانی سے لبریز تازہ درخت میں آگ پکڑنے والا وہ مادہ رکھ دیا ہے جس سے تازہ لکڑی بھی جلنے لگتی ہے۔ اسی طرح وہ زندہ سے مُردہ کو اور مُردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور نکالے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔