ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يس (36) — آیت 22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ En
اور مجھے کیا ہے میں اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے
En
اور مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) ➊ { وَ مَا لِيَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ:} توحید کی دعوت دیتے ہوئے اس مرد صالح نے نہایت حکیمانہ اسلوب اختیار کیا کہ انھیں مخاطب کرنے کے بجائے اپنے آپ کو مخاطب کر لیا، تاکہ وہ چڑ نہ جائیں۔ یعنی آخر مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور ان کی عبادت کروں جنھوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا، بلکہ خود لوگوں نے انھیں بنایا ہے۔
➋ { وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس نے ہمیں پیدا کر کے آزاد چھوڑ دیا ہے، اب اس کا کوئی تعلق واسطہ ہم سے نہیں رہا، بلکہ تم سب کو مرنے کے بعد اسی کے پاس واپس لے جایا جائے گا، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔