تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس نے ہمیں پیدا کر کے آزاد چھوڑ دیا ہے، اب اس کا کوئی تعلق واسطہ ہم سے نہیں رہا، بلکہ تم سب کو مرنے کے بعد اسی کے پاس واپس لے جایا جائے گا، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[25] چوتھی بات ان کے انجام سے متعلق انہیں سمجھائی کہ آخر تم سب نے مرنا ہے۔ اور تم سب کی روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ اور تمہیں اس ہستی کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس کی بندگی کی دعوت پر آج تمہیں اعتراض ہے اور جو تمہیں یہ بات سمجھائے اس کے درپے آزار ہو جاتے ہو۔ پھر تم خود ہی سوچ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر تو نہ صرف مجھے بلکہ دنیا کے ہر بھلے انسان کو میری گمراہی کھل جائے گی۔ میری قوم کے لوگو! اپنے جس حقیقی معبود اور پروردگار سے تم منکر ہوئے ہو۔ سنو میں تو اس کی ذات پر ایمان رکھتا ہوں اور یہ بھی معنی اس آیت کے ہو سکتے ہیں کہ اس اللہ کے بندے مرد صالح نے اب اپنی قوم سے روگردانی کر کے اللہ کے ان رسولوں سے یہ کہا ہو کہ اللہ کے پیغمبرو! تم میرے ایمان کے گواہ رہنا! میں اس اللہ کی ذات پر ایمان لایا جس نے تمہیں برحق رسول بنا کر بھیجا ہے، پس گویا یہ اپنے ایمان پر اللہ کے رسولوں کو گواہ بنا رہا ہے۔ یہ قول بہ نسبت اگلے قول کے بھی زیادہ واضح ہے واللہ اعلم۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ بزرگ اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ تمام کفار پل پڑے اور زدوکوب کرنے لگے۔ کون تھا جو انہیں بچاتا؟ پتھر مارتے مارتے انہیں اسی وقت فی الفور شہید کر دیا «رضی اللہ عنہ وارضاہ» یہ اللہ کے بندے یہ سچے ولی اللہ پتھر کھا رہے تھے لیکن زبان سے یہی کہے جا رہے تھے کہ اللہ میری قوم کو ہدایت کر یہ جانتے نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فكأنَّ قومَه لم يَقْبَلوا نُصْحَهُ، بل عادوا لائمين له على اتِّباع الرسل وإخلاص الدين لله وحده، فقال: {وما لي لا أعبُدُ الذي فَطَرَني وإليه تُرْجَعونَ}؛ أي: وما المانعُ لي من عبادةِ مَنْ هو المستحقُّ للعبادة؛ لأنَّه الذي فَطَرني وخَلَقَني ورَزَقَني وإليه مآل جميع الخلق فيجازيهم بأعمالهم؛ فالذي بيدِهِ الخَلْقُ والرزقُ والحكمُ بين العباد في الدُّنيا والآخرة هو الذي يَسْتَحِقُّ أن يُعْبَدَ ويُثْنى عليه ويُمَجَّدَ دون مَنْ لا يملِكُ نفعاً ولا ضرًّا ولا عطاءً ولا منعاً ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، ولهذا قال: {أأتَّخِذُ من دونِهِ آلهةً إن يُرِدْنِ الرحمنُ بِضُرٍّ لا تُغْنِ عنِّي شفاعَتُهُم شيئاً}: لأنَّه لا أحدَ يشفع عند الله إلاَّ بإذنِهِ؛ فلا تُغْني شفاعتُهم عني شيئاً {ولا هم يُنقِذونِ}: من الضُّرِّ الذي أرادَه اللهُ بي. {إنِّي إذاً}؛ أي: إن عبدتُ آلهةً هذا وصفُها {لَفي ضلال مُبينٍ}: فجمع في هذا الكلام بين نُصحهم، والشهادةِ للرسُل بالرسالةِ والاهتداءِ، والإخبار بتعيُّن عبادة الله وحدَه، وذكر الأدلَّة عليها، وأنَّ عبادة غيرِهِ باطلةٌ، وذَكَرَ البراهينَ عليها والأخبارَ بضلال مَنْ عَبَدَها، والإعلان بإيمانِهِ جَهْراً مع خوفِهِ الشديد من قتلهم، فقال: {إنِّي آمنتُ بربِّكُم فاسمعونِ}.