ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ يس (36) — آیت 16

قَالُوۡا رَبُّنَا یَعۡلَمُ اِنَّاۤ اِلَیۡکُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾
انھوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمھاری طرف ضرور بھیجے ہوئے ہیں۔ En
انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں
En
ان (رسولوں) نے کہا ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بےشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) {قَالُوْا رَبُّنَا يَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ:} ہمارا رب جانتا ہے یہ الفاظ قسم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بلاغت کا اصول ہے کہ سننے والا جتنی شدت کے ساتھ کسی بات کا منکر ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جائے۔ پیغمبروں کا حوصلہ دیکھیے، بستی والوں کے انھیں صاف جھوٹا کہنے پر بھی وہ برا فروختہ نہیں ہوئے، بلکہ قسم کھا کر انھیں اپنی رسالت کا یقین دلانے کی کوشش کی۔