(آیت 64){ اِنَّاللّٰهَلَعَنَالْكٰفِرِيْنَ …:} مفردات راغب میں ہے {”لَعَنَ“} کا معنی ناراض ہو کر دفع دور کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں سزا دینا ہے اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم رکھنا ہے اور انسان کی لعنت کسی کے لیے بددعا کرنا ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والے یہ کافر، خواہ علانیہ منکر ہیں یا منافق، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور توفیق سے دور کر دیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔