تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1] اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1] اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1] وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2] ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔
اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67]۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومجردُ مجيء الساعة قرباً وبعداً ليس تحته نتيجةٌ ولا فائدةٌ، وإنَّما النتيجة والخسار والربح والشقاوة والسعادة: هل يستحقُّ العبدُ العذاب أو يستحقُّ الثواب؛ فهذه سأخبركم بها وأصفُ لكم مستحقَّها، فوصف مستحقَّ العذاب ووصف العذاب؛ لأنَّ الوصف المذكور منطبقٌ على هؤلاء المكذِّبين بالساعة، فقال: {إنَّ الله لَعَنَ الكافرين}؛ أي: الذين صار الكفر دأبهم وطريقتهم الكفر بالله وبرسُلِهِ وبما جاؤوا به من عند الله، فأبعدهم في الدنيا والآخرة من رحمته، وكفى بذلك عقاباً، {وأعدَّ لهم سعيراً}؛ أي: ناراً موقدةً تُسَعَّرُ في أجسامهم، ويبلغُ العذاب إلى أفئدتهم، ويخلدون في ذلك العذاب الشديد، فلا يخرجونَ منه، ولا يُفَتَّرُ عنهم ساعةً، {ولا يجدون} لهم {وليًّا}: فيعطيهم ما طلبوه {ولا نصيراً}: يدفعُ عنهم العذابَ، بل قد تخلَّى عنهم العلي النصير وأحاطَ بهم عذابُ السعير، وبلغ منهم مبلغاً عظيماً، ولهذا قال: {يوم تُقَلَّبُ وجوهُهم في النارِ}: فيذوقون حرَّها، ويشتدُّ عليهم أمرُها، ويتحسرون على ما أسلفوا. و {يقولونَ يا لَيْتَنا أطَعْنا الله وأطَعْنا الرسولا}: فسلِمْنا من هذا العذاب، واستَحْقَقنا كالمطيعين جزيلَ الثواب، ولكن أمنية فاتَ وقتُها، فلم تفدهم إلا حسرةً وندماً وهمًّا وغمًّا وألماً.