ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 64

اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿ۙ۶۴﴾
بے شک اللہ نے کافروں پر لعنت کی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔ En
بےشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے
En
اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64){ اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ …:} مفردات راغب میں ہے {لَعَنَ} کا معنی ناراض ہو کر دفع دور کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں سزا دینا ہے اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم رکھنا ہے اور انسان کی لعنت کسی کے لیے بددعا کرنا ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والے یہ کافر، خواہ علانیہ منکر ہیں یا منافق، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور توفیق سے دور کر دیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ اللہ تعالیٰ نے یقیناً کافروں پر لعنت کی [105] ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی دوزخ تیار رکھی ہے
[105] یہ اسی لعنت کا اثر ہے کہ بس فضول سے سوالات کئے جاتے ہیں جس سے ان کا مقصد محض شغل اور استہزاء ہوتا ہے اور اس دوزخ کی آگ سے نہیں ڈرتے جو ان کے لئے تیار کی جا چکی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت قریب تر سمجھو ٭٭
لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کروا دیا کہ ’ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ‘۔
سورۃ الأعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکے میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتداء سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔
جیسے اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:1]‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:1]‏‏‏‏ اور «اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:1]‏‏‏‏ وغیرہ، ’ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے ‘۔
’ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچ اس کے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے ‘
اور آیت میں ہے «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:2]‏‏‏‏ ’ عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ‘، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو ان کے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں «کَبِْیراً» کے بدلے «کَثِیْراً» ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تعلیم فرمائی «للَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کر سکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:834]‏‏‏‏
اس حدیث میں بھی «ظُلْمًا كَثِيرًا» اور «کَبِْیراً» دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں «كَثِيرًا کَبِْیراً» دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی «كَثِيرًا» کہے کبھی «کَبِْیراً» دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کر سکتا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جا کر یہ کہو گے کہ «وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:67]‏‏‏‏۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَ٘عَنَ الْ٘كٰفِرِیْنَ بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًا اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا یَجِدُوْنَ وہ نہیں پائیں گے اپنے لیے ﴿وَلِیًّا کوئی دوست جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِیْرًا نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔
اس لیے فرمایا: ﴿یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومجردُ مجيء الساعة قرباً وبعداً ليس تحته نتيجةٌ ولا فائدةٌ، وإنَّما النتيجة والخسار والربح والشقاوة والسعادة: هل يستحقُّ العبدُ العذاب أو يستحقُّ الثواب؛ فهذه سأخبركم بها وأصفُ لكم مستحقَّها، فوصف مستحقَّ العذاب ووصف العذاب؛ لأنَّ الوصف المذكور منطبقٌ على هؤلاء المكذِّبين بالساعة، فقال: {إنَّ الله لَعَنَ الكافرين}؛ أي: الذين صار الكفر دأبهم وطريقتهم الكفر بالله وبرسُلِهِ وبما جاؤوا به من عند الله، فأبعدهم في الدنيا والآخرة من رحمته، وكفى بذلك عقاباً، {وأعدَّ لهم سعيراً}؛ أي: ناراً موقدةً تُسَعَّرُ في أجسامهم، ويبلغُ العذاب إلى أفئدتهم، ويخلدون في ذلك العذاب الشديد، فلا يخرجونَ منه، ولا يُفَتَّرُ عنهم ساعةً، {ولا يجدون} لهم {وليًّا}: فيعطيهم ما طلبوه {ولا نصيراً}: يدفعُ عنهم العذابَ، بل قد تخلَّى عنهم العلي النصير وأحاطَ بهم عذابُ السعير، وبلغ منهم مبلغاً عظيماً، ولهذا قال: {يوم تُقَلَّبُ وجوهُهم في النارِ}: فيذوقون حرَّها، ويشتدُّ عليهم أمرُها، ويتحسرون على ما أسلفوا. و {يقولونَ يا لَيْتَنا أطَعْنا الله وأطَعْنا الرسولا}: فسلِمْنا من هذا العذاب، واستَحْقَقنا كالمطيعين جزيلَ الثواب، ولكن أمنية فاتَ وقتُها، فلم تفدهم إلا حسرةً وندماً وهمًّا وغمًّا وألماً.