(آیت 6) {ذٰلِكَعٰلِمُالْغَيْبِوَالشَّهَادَةِ …:} یعنی وہ پروردگار جو خلق و تدبیر کا یہ سارا سلسلہ چلا رہا ہے، اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ جو کچھ تم سے غائب ہے یا حاضر، ماضی ہے یا حال یا مستقبل، سب کچھ اس کے علم میں ہے، قدرت اس کی اتنی بے پایاں ہے کہ وہ ہر ایک پر غالب ہے اور رحمت اتنی کہ ہر چیز کو اپنے دامن میں سمائے ہوئے ہے۔ اس کے سوا نہ کسی کے پاس یہ علم ہے، نہ قدرت اور نہ رحمت، خواہ وہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ یا کوئی اور مخلوق، تو پھر کسی اور کی عبادت کیوں کی جائے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔