ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 28

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾
اور وہ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا، اگر تم سچے ہو؟ En
اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا؟
En
اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ) En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) {وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ …:} مشرکین جب قیامت قائم ہونے کے دلائل کے سامنے لاجواب ہوتے تو کہتے، اچھا بتاؤ، یہ فیصلہ کب ہو گا، قیامت کب آئے گی؟ اس سے ان کی جہالت واضح ہوتی ہے کہ جب ایک چیز کا آنا یقینی ہو تو صرف اس وجہ سے اس سے غفلت برتنا کیسے درست ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کے وقت کا علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس سوال کا متعدد مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۴۲ تا ۴۵) اور بنی اسرائیل (۴۹ تا ۵۱)۔