(آیت 10) {ثُمَّكَانَعَاقِبَةَالَّذِيْنَاَسَآءُواالسُّوْٓاٰۤى …: ”السُّوْٓاٰۤى“”أَسْوَأُ“} کا مؤنث ہے جو اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں بلکہ مراد مبالغہ ہے، یعنی بہت ہی برا۔ {”اَنْكَذَّبُوْا“} سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا۔ {”ثُمَّ“} کا لفظ لانے میں اشارہ ہے کہ ان قوموں کو بہت مہلت دی گئی، پھر آخر کار ان کا انجام بہت ہی برا ہوا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔