ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 102

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ En
مومنو! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا
En
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 102) ➊ {اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِهٖ …:} عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر یوں مروی ہے: اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ [ابن أبی حاتم: 112/3۔ مستدرک حاکم: 323/2، ح: ۳۱۵۹] ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس قول کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، مراد حسبِ استطاعت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ» ‏‏‏‏ [التغابن: ۱۶] سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔
➋ {وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ:} چونکہ موت کا علم ہی نہیں کب آ جائے، اس لیے موت آنے تک ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اسی طرح ڈرتے رہو۔