تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ:} چونکہ موت کا علم ہی نہیں کب آ جائے، اس لیے موت آنے تک ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اسی طرح ڈرتے رہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾
یعنی ممکنہ حد تک اللہ سے ڈرتے رہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے واللہ اعلم۔[تفسیر ابن ابی حاتم:446/2:موقوف]۱؎
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لا سکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے [تفسیر ابن ابی حاتم:447/2]۱؎
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص جہنم سے الگ ہوتا اور جنت میں جانا چاہتا ہو اسے چاہیئے کہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جسے وہ خود اپنے لیے چاہتا ہو [مسند احمد:192/2:صحیح] ۱؎ [مسند احمد]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھے میں اس کے گمان کے پاس ہی ہوں اگر اس کا میرے ساتھ حسن ظن ہے تو میں اس کے ساتھ اچھائی کروں گا اور اگر وہ میرے ساتھ بدگمانی کرے گا تو میں اس سے اسی طرح پیش آؤں گا [مسند احمد:391/2:صحیح] ۱؎ [مسند احمد]
اس حدیث کا اگلا حصہ بخاری مسلم میں بھی ہے [صحیح بخاری:7505] ۱؎،
مسند بزار میں ہے کہ ایک بیمار انصاری رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور سلام کر کے فرمانے لگے کہ کیسے مزاج ہیں؟ اس نے کہا الحمدللہ اچھا ہوں رب کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اس نے عذابوں سے ڈر رہا ہوں، آپ نے فرمایا سنو ایسے وقت جس دل میں خوف و طمع دونوں ہوں اللہ اس کی امید کی چیز اسے دیتا ہے اور ڈر خوف کی چیز سے بچاتا ہے [سنن ترمذي:983،قال الشيخ الألباني:حسن] ۱؎،
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور کہا کہ میں کھڑے کھڑے ہی گروں [مسند احمد:402/3:صحیح] ۱؎، اس کا مطلب امام نسائی نے تو سنن نسائی میں باب باندھ کر یہ بیان کیا ہے کہ سجدے میں اس طرح جانا چاہیئے، اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ میں مسلمان ہوئے بغیر نہ مروں، اور یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ جہاد پیٹھ دکھاتا ہوا نہ مارا جاؤں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الآيات فيها حث الله عباده المؤمنين أن يقوموا بشكر نعمه العظيمة بأن يتقوه حق تقواه، وأن يقوموا بطاعته وترك معصيته مخلصين له بذلك، وأن يقيموا دينهم ويستمسكوا بحبله الذي أوصله إليهم، وجعله السبب بينهم وبينه وهو دينه وكتابه، والاجتماع على ذلك وعدم التفرق، وأن يستديموا ذلك إلى الممات.
وذكرهم ما هم عليه قبل هذه النعمة وهو أنهم كانوا أعداء متفرقين فجمعهم بهذا الدين وألّف بين قلوبهم وجعلهم إخواناً، وكانوا على شفا حفرة من النار فأنقذهم من الشقاء، ونهج بهم طريق السعادة؛ لذلك بين {الله لكم آياته لعلكم تهتدون}؛ إلى شكر الله والتمسك بحبله. وأمرهم بتتميم هذه الحالة، والسبب الأقوى الذي يتمكنون به من إقامة دينهم بأن يتصدى منهم طائفة يحصل فيها الكفاية {يدعون إلى الخير}؛ وهو الدين: أصوله وفروعه وشرائعه {ويأمرون بالمعروف}؛ وهو ما عرف حسنه شرعاً وعقلاً {وينهون عن المنكر}؛ وهو ما عرف قبحه شرعاً وعقلاً {وأولئك هم المفلحون}؛ المدركون لكل مطلوب الناجون من كل مرهوب، ويدخل في هذه الطائفة أهل العلم والتعليم والمتصدون للخطابة ووعظ الناس عموماً وخصوصاً والمحتسبون، الذين يقومون بإلزام الناس بإقامة الصلوات وإيتاء الزكاة والقيام بشرائع الدين، وينهونهم عن المنكرات.
فكل من دعا الناس إلى خير على وجه العموم أو على وجه الخصوص، أو قام بنصيحة عامة أو خاصة فإنه داخل في هذه الآية الكريمة.
ثم نهاهم عن سلوك مسلك المتفرقين الذين جاءهم الدين والبينات الموجب لقيامهم به واجتماعهم، فتفرقوا واختلفوا وصاروا شيعاً، ولم يصدر ذلك عن جهل وضلال وإنما صدر عن علم وقصد سيئ وبغي من بعضهم على بعض، ولهذا قال: {وأولئك لهم عذاب عظيم}؛ ثم بين متى يكون هذا العذاب العظيم ويمسهم هذا العذاب الأليم فقال: