اور انھوں نے کہا اگر ہم تیرے ہمراہ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، ہماری طرف سے روزی کے لیے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
En
اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے
کہنے لگے اگر ہم آپ کے ساتھ ہوکر ہدایت کے تابع دار بن جائیں تو ہم تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں، کیا ہم نے انہیں امن وامان اور حرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی؟ جہاں تمام چیزوں کے پھل کِھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس بطور رزق کے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر کچھ نہیں جانتے
En
(آیت 57) ➊ {وَقَالُوْۤااِنْنَّتَّبِعِالْهُدٰىمَعَكَ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ اور اس کا جواب اوپر گزر چکا ہے: «{ فَلَمَّاجَآءَهُمُالْحَقُّمِنْعِنْدِنَاقَالُوْالَوْلَاۤاُوْتِيَمِثْلَمَاۤاُوْتِيَمُوْسٰىاَوَلَمْيَكْفُرُوْابِمَاۤاُوْتِيَمُوْسٰىمِنْقَبْلُ }»[القصص: ۴۸]” پھر جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آگیا تو انھوں نے کہا اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں؟ تو کیا انھوں نے اس سے پہلے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو دی گئی تھیں۔“ اب اس آیت میں ان کے ایمان نہ لانے کا ایک اور بہانہ ذکر فرمایا۔ {”وَقَالُوْۤااِنْنَّتَّبِعِالْهُدٰىمَعَكَ … “} کا عطف گزشتہ آیت (۴۸) {”قَالُوْالَوْلَاۤاُوْتِيَمِثْلَمَاۤاُوْتِيَمُوْسٰى“} پر ہے، یعنی بعض مشرکین نے یہ کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ حق پر ہیں، لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کے ہمراہ ہدایت کی پیروی اختیار کر لی اور سارے عرب کی مخالفت مول لے لی تو وہ ہمیں ہماری سر زمین سے اچک لیں گے اور ایسی خاموشی سے یکلخت اٹھا لے جائیں گے کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو گی۔ ➋ { اَوَلَمْنُمَكِّنْلَّهُمْحَرَمًااٰمِنًا …:} یہ ان کے عذر کا جواب ہے کہ جب پورے عرب میں ہر طرف بدامنی کا دور دورہ ہے، کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال، دن دہاڑے لوگوں کو اٹھا کر لونڈی و غلام بنا لیا جاتا ہے، قبائل غربت و فقر کی وجہ سے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں، تو کیا اس وقت ہم نے انھیں اس حرم میں جگہ نہیں دی جس کے امن و امان کی یہ حالت ہے کہ اس کے جانوروں تک کو کوئی نہیں ستاتا اور جسے وادی غیر ذی زرع ہونے کے باوجود اس قدر مرکزی حیثیت حاصل ہے کہ دنیا بھر کے پھل اور اموال تجارت اس کی طرف کھچے چلے آرہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسے یہ حیثیت ہم نے بخشی ہے، تو جب ہم نے کفروشرک کے باوجود انھیں اس قدر امن و امان دیا اور اپنی نعمتوں سے نوازا تو کیا جب وہ ہمارا دین اختیار کریں گے تو ہم انھیں پناہ نہیں دیں گے؟ اور لوگوں کی دست درازی سے ان کی حفاظت نہیں کریں گے۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو گا، لیکن اکثر لوگ نادان ہیں، جانتے نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۷)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔