ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 92

وَ قِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَمَا کُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جنھیں تم پوجتے تھے؟
اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں؟
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 93،92) {وَ قِيْلَ لَهُمْ اَيْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ …: يَنْتَصِرُوْنَ اِنْتَصَرَ يَنْتَصِرُ} (افتعال) کا معنی اپنا بچاؤ کرنا بھی ہے اور بدلا لینا بھی، یعنی ان گمراہوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، کیا وہ تمھاری مدد کرتے ہیں، یا تمھارا بدلا لیتے ہیں، یا کم از کم اپنا بچاؤ ہی کرتے ہیں؟