(آیت 93،92) {وَقِيْلَلَهُمْاَيْنَمَاكُنْتُمْتَعْبُدُوْنَ …: ”يَنْتَصِرُوْنَ“”اِنْتَصَرَيَنْتَصِرُ“} (افتعال) کا معنی اپنا بچاؤ کرنا بھی ہے اور بدلا لینا بھی، یعنی ان گمراہوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، کیا وہ تمھاری مدد کرتے ہیں، یا تمھارا بدلا لیتے ہیں، یا کم از کم اپنا بچاؤ ہی کرتے ہیں؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
92۔ اور ان سے کہا جائے گا: تمہارے وہ معبود کہاں ہیں جن کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 90 میں تا آیت 96 میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔