ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 9

وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۹﴾
اور بے شک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔ En
اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے
En
اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) {وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ: اِنَّ } کے اسم { رَبَّكَ } اور خبر { الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ } دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے اور درمیان میں { لَهُوَ } ضمیر لانے سے قصر میں مزید زور پیدا ہو رہا ہے۔ یعنی تیرا رب ہی ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے سوا کوئی غالب نہیں، وہ زبردست قوت والا ہے، جو چاہے کر سکتا ہے، ان کی نافرمانیوں پر انھیں آنکھ جھپکنے میں پکڑ سکتا ہے، مگر وہ ساتھ ہی رحیم بھی ہے، توبہ کرنے پر عمر بھر کی نافرمانیوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اس لیے انھیں سنبھلنے کے لیے موقع پر موقع دیے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔