ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 139

فَکَذَّبُوۡہُ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 139) ➊ {فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ:} اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوموں کو پانی کے ذریعے سے عذاب دیا اور جن لوگوں کو اپنی قوت و طاقت کا بہت زعم تھا، اللہ تعالیٰ نے انھیں ہوا کے ذریعے سے عذاب دیا جو پانی سے کہیں بڑھ کر قوت و طاقت رکھتی ہے، یہ عذاب آندھی کی صورت میں تھا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل ان پر چلی اور اس نے ان کی ہر چیز کو تباہ کر ڈالا۔ دیکھیے سورۂ حٰم السجدہ (۱۶)، احقاف (۲۴، ۲۵) اور حاقہ (۶، ۷)۔
➋ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً …:} بے شک ان لوگوں کے قصے میں مشرکین مکہ کے لیے ایک عظیم درس عبرت ہے، مگر نہ ان کے اکثر لوگ ایمان لائے، نہ ان کے اکثر ایمان لانے والے ہیں۔