ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 136

قَالُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَوَ عَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَکُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾ۙ
انھوں نے کہا ہم پر برابر ہے کہ تو نصیحت کرے، یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔
وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے
انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 136) {قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَيْنَاۤ اَوَ عَظْتَ …:} مفردات راغب میں ہے وعظ ایسا ڈانٹنا ہے جس کے ساتھ خوف دلانا بھی ہو۔ خلیل نے فرمایا: اس کا معنی ہے ایسے اچھے طریقے سے نصیحت کرنا جس سے دل نرم ہو جائیں۔ یہ ہود علیہ السلام کی قوم کا جواب ہے کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو، ہم تمھاری بات کسی طرح ماننے والے نہیں۔ ان الفاظ سے ان کا ہود علیہ السلام کے ساتھ بے پروائی اور تحقیر کا سلوک نمایاں ہو رہا ہے۔ سورۂ ہود (۵۳) میں ان کے جواب کے مزید الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔