تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [2-البقرة:6] ’ ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کر دینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے ‘۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس: 96، 97] یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا ‘۔
«إِنْ هَـٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» [26-الشعراء:137] «خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» کی دوسری قرأت «خَلْقُ الْاَوَّلِیْنَ» بھی ہے یعنی ’ جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں ‘، جیسے قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔
یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قرأت کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ ’ جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جیئں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا ‘۔
آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولیٰ تھے جنہیں آیت «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم نوح علیہ السالم کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اس کی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔
اسی لیے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت «لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» ۱؎ [89-الفجر:8]۔ ’ ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا ‘۔
’ کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا ‘۔ یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام و نشان مٹا دیا جہاں سے گزر گئی صفایا کر دیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہو گئے اور دھڑ الگ ہو گئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔
زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے؟ وہ ایک منٹ کے لیے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بے ایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقالوا معاندينَ للحقِّ مكذِّبين لنبيِّهم: {سواءٌ علينا أوعظتَ أمْ لم تكن من الواعظينَ}؛ أي: الجميع على حدٍّ سواء! وهذا غاية العتوِّ؛ فإنَّ قوماً بلغتْ بهم الحالُ إلى أن صارتْ مواعظُ الله التي تُذيبُ الجبالَ الصُّمَّ الصِّلابَ، وتتصدَّعُ لها أفئدةُ أولي الألباب، وجودُها وعدمُها عندهم على حدٍّ سواء؛ لَقَوْمٌ انتهى ظلمُهم واشتدَّ شقاؤُهم وانقطعَ الرجاءُ من هدايَتِهِم، ولهذا قالوا: {إنْ هذا إلاَّ خُلُقُ الأوَّلينَ}؛ أي: هذه الأحوال والنعم ونحو ذلك عادةُ الأولينَ؛ تارةً يستغنون، وتارةً يفتقرونَ، وهذه أحوال الدَّهر؛ لأنَّ هذه محنٌ ومنحٌ من الله تعالى وابتلاءٌ لعباده. {وما نحن بِمُعَذَّبينَ}: وهذا إنكارٌ منهم للبعث، أو تنزُّلٌ مع نبيِّهم وتهكُّمٌ به؛ أنَّنا على فرض أنَّنا نُبْعَثُ؛ فإنَّنا كما أُدِرَّتْ علينا النعمُ في الدنيا؛ كذلك لا تزال مستمرةً علينا إذا بُعِثْنا.