(آیت 113،112) {قَالَوَمَاعِلْمِيْبِمَاكَانُوْايَعْمَلُوْنَ …:} یعنی مجھے تو اللہ کا راستہ بتانے سے غرض ہے نہ کہ ان کے پیشوں سے۔ وہ کمائی کے لیے جو بھی کام کریں یا جو بھی پیشہ اختیار کریں، اگر وہ جائز ہے تو وہ اپنے ایمان دار ہونے کی وجہ سے ان مغرور مال داروں سے افضل ہیں جو اللہ کی نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں، مجھے تو ظاہری ایمان کو دیکھنا ہے، ان کی نیتوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے، وہی ان کا حساب کرے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أُمِرْتُأَنْأُقَاتِلَالنَّاسَحَتّٰیيَشْهَدُوْاأَنْلَّاإِلٰهَإِلَّااللّٰهُوَأَنَّمُحَمَّدًارَّسُوْلُاللّٰهِ،وَيُقِيْمُواالصَّلَاةَ،وَيُؤْتُواالزَّكَاةَ،فَإِذَافَعَلُوْاذٰلِكَعَصَمُوْامِنِّيْدِمَاءَهُمْوَأَمْوَالَهُمْإِلَّابِحَقِّالْإِسْلَامِوَحِسَابُهُمْعَلَیاللّٰهِ][بخاري، الإیمان، باب فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ: ۲۵]”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اگر وہ یہ کام کریں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کر لیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔