ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 112

قَالَ وَ مَا عِلۡمِیۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾ۚ
اس نے کہا اور مجھے کیا علم کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔ En
نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں
En
آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 113،112) {قَالَ وَ مَا عِلْمِيْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ …:} یعنی مجھے تو اللہ کا راستہ بتانے سے غرض ہے نہ کہ ان کے پیشوں سے۔ وہ کمائی کے لیے جو بھی کام کریں یا جو بھی پیشہ اختیار کریں، اگر وہ جائز ہے تو وہ اپنے ایمان دار ہونے کی وجہ سے ان مغرور مال داروں سے افضل ہیں جو اللہ کی نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں، مجھے تو ظاہری ایمان کو دیکھنا ہے، ان کی نیتوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے، وہی ان کا حساب کرے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ، وَ يُقِيْمُوا الصَّلَاةَ، وَ يُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَ حِسَابُهُمْ عَلَی اللّٰهِ] [بخاري، الإیمان، باب فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ: ۲۵] مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اگر وہ یہ کام کریں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کر لیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

112-1یعنی مجھے اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے کہ میں لوگوں کے حسب نسب، امارت و غربت اور ان کے پیشوں کی تفتیش کروں بلکہ میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ایمان کی دعوت دوں اور جو اسے قبول کرلے، چاہے وہ کسی حیثیت کا حامل ہو، اسے اپنی جماعت میں شامل کرلوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

112۔ نوح نے کہا: ”میں کیا جانوں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے ٭٭
قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کر دینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چنانچہ نوح علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلْ٘مِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۰۰ اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَ٘شْ٘عُرُوْنَ اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔
﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَ اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوح علیہ السلام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوح علیہ السلام نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰ٘مٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (الانعام:6؍54) اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔
﴿ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال نوحٌ عليه السلام: {وما علمي بما كانوا يَعْمَلونَ. إنْ حسابهم إلاَّ على ربِّي لو تشعُرونَ}؛ أي: أعمالُهُم وحسابُهم على الله، إنَّما عليَّ التبليغُ، وأنتم دعوهم عنكم؛ إنْ كان ما جئتُكم به الحقَّ؛ فانقادوا له، وكلٌّ له عملُه، {وما أنا بطاردِ المؤمنينَ}: كأنَّهم - قبَّحهم الله - طلبوا منه أن يَطْرُدَهم عنه تكبُّراً وتجبُّراً ليؤمنوا، فقال: {وما أنا بطاردِ المؤمنينَ}؛ فإنَّهم لا يستحقُّون الطردَ والإهانةَ، وإنَّما يستحقُّون الإكرامَ القوليَّ والفعليَّ؛ كما قال تعالى: {وإذا جاءك الذين يؤمنونَ بآياتِنا فَقُلْ سلامٌ عليكم كَتَبَ ربُّكم على نفسِهِ الرحمةَ}. {إنْ أنا إلاَّ نذيرٌ مبينٌ}؛ أي: ما أنا إلاَّ منذر ومبلغ عن الله، ومجتهد في نصح العباد وليس لي من الأمر شيء إن الأمر إلا لله.