ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النور (24) — آیت 45

وَ اللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰی بَطۡنِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰی رِجۡلَیۡنِ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰۤی اَرۡبَعٍ ؕ یَخۡلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۵﴾
اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ En
اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تو اس میں بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہےان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں، بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں۔ بعض چار پاؤں پر چلتے ہیں، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) ➊ { وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۳۰) یہ اس مقام پر توحید کی چوتھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والا (جان دار) پانی سے پیدا فرمایا، پھر ایک ہی چیز سے پیدا ہونے والے تمام جان دار زندگی کی پہلی حالت ہی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے جیسے سانپ، مچھلی اور بعض قسم کے کیڑے مکوڑے، کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے جیسے انسان اور پرندے اور کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے جیسے گائے، بھینس، گھوڑے اور دوسرے چوپائے اور درندے۔
➋ {يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ:} یعنی کسی جانور کو چاہے تو اس سے زیادہ پاؤں دے دیتا ہے، جیسے کنکھجورا، کیکڑا، مکڑی اور کئی قسم کے کیڑے اور سمندری مخلوق۔ یہ کائنات میں پھیلے ہوئے نور ہدایت ہی کا اظہار ہے، جسے دیکھ کر سعادت مند لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آتے ہیں اور اس پر بھی کہ جب اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا فرما سکتا ہے، تو وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ بھی کرے گا۔ چلنے میں جانوروں کی ترتیب بھی قابل توجہ ہے، سب سے پہلے وہ جس کے پاؤں ہی نہیں، ان کے چلنے میں قدرت کا اظہار سب سے زیادہ ہے، پھر دو پاؤں پر چلنا چار پاؤں پر چلنے سے عجیب ہے۔
➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ:} یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ جو چاہے پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔