تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ:} یعنی کسی جانور کو چاہے تو اس سے زیادہ پاؤں دے دیتا ہے، جیسے کنکھجورا، کیکڑا، مکڑی اور کئی قسم کے کیڑے اور سمندری مخلوق۔ یہ کائنات میں پھیلے ہوئے نور ہدایت ہی کا اظہار ہے، جسے دیکھ کر سعادت مند لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آتے ہیں اور اس پر بھی کہ جب اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا فرما سکتا ہے، تو وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ بھی کرے گا۔ چلنے میں جانوروں کی ترتیب بھی قابل توجہ ہے، سب سے پہلے وہ جس کے پاؤں ہی نہیں، ان کے چلنے میں قدرت کا اظہار سب سے زیادہ ہے، پھر دو پاؤں پر چلنا چار پاؤں پر چلنے سے عجیب ہے۔
➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ:} یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ جو چاہے پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مخلوقات میں سے سب سے پہلے اللہ نے پانی کو پیدا کیا تھا۔ اور عرش کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں نہ ہم یہ جاننے کے مکلف ہیں۔ پھر سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 30 میں فرمایا: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ﴾ [21: 30] یعنی جس چیز میں بھی زندگی کی رمق ہے اسے ہم نے پانی سے بنایا ہے۔ جس کا دوسرا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ کوئی جاندار چیز پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اور اس آیت میں جانداروں کا ذکر فرمایا کہ وہ پانی سے پیدا ہوئے ہیں۔ خواہ وہ کس نوعیت کے ہوں۔ کیڑے مکوڑے ہوں، پیٹ کے بل چلنے یا رینگنے والے ہوں، جیسے سانپ، گرگٹ اور مچھلی وغیرہ یا دو پاؤں پر چلنے والے ہوں۔ جیسے انسان اور پرندے یا چار پاؤں پر جیسے تمام مویشی اور درندے وغیرہ۔ پھر کچھ ایسی بھی مخلوق ہے جس کے پاؤں چار سے بہت زیادہ ہوتے ہیں جیسے کنکھجورا وغیرہ۔ تو ایسی سب مخلوق کی ابتداء پانی ہی سے ہوئی تھی اور پانی کے سہارے ہی یہ مخلوق زندہ رہ سکتی ہے۔ پانی سے روئے زمین کی تمام اشیاء کو اور بالخصوص جاندار اشیاء کو وجود میں لانا بھی اللہ تعالیٰ کا ایسا کارنامہ ہے جس سے اس کی ہر چیز پر قدرت ہونے کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ڈارون کے نظریہ کے مطابق زندگی کا آغاز سمندر کے کنارے کائی سے ہوا تھا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کائی بھی پانی ہی کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی اور حقیقتاً ہر شے کی زندگی کا آغاز کائی سے نہیں بلکہ پانی سے ہوا تھا۔ علاوہ ازیں اسلامی نظریہ حیات ڈارون کے پیش کردہ نظریہ حیات سے کئی باتوں میں متصادم ہے۔ [تفصيل كے لئے ديكهئے ميري تصنيف آئينه پرويزيت حصه دوم ميں نظريه ارتقاء]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينبِّه عباده على ما يشاهدونَه أنَّه خَلَقَ جميع الدوابِّ التي على وجه الأرض {من ماءٍ}؛ أي: مادَّتُها كلُّها الماء؛ كما قال تعالى: {وَجَعَلْنا من الماءِ كلَّ شيءٍ حيٍّ}؛ فالحيوانات التي تتوالد، مادتها ماءُ النطفةِ حين يلقحُ الذَّكر الأنثى، والحيوانات التي تتولَّد من الأرض لا تتولَّد إلاَّ من الرطوبات المائيَّة؛ كالحشرات، لا يوجد منها شيءٌ يتولَّد من غير ماء أبداً؛ فالمادَّة واحدةٌ، ولكن الخِلْقَةَ مختلفةٌ من وجوه كثيرة. {فمنهم من يمشي على بطنِهِ}؛ كالحيَّة ونحوها، {ومنهم مَنْ يمشي على رجلينِ}؛ كالآدميِّين وكثيرٍ من الطُّيور، {ومنهم من يمشي على أربع}؛ كبهيمة الأنعام ونحوها؛ فاختلافُها مع أنَّ الأصل واحدٌ يدلُّ على نفوذِ مشيئة الله وعموم قدرتِهِ. ولهذا قال: {يَخْلُقُ الله ما يشاءُ}؛ أي: من المخلوقات على ما يشاؤه من الصفات. {إنَّ الله على كلِّ شيء قديرٌ}؛ كما أنزل المطر على الأرض، وهو لقاحٌ واحدٌ، والأمُّ واحدةٌ، وهي الأرضُ، والأولاد مختلفو الأصنافِ والأوصافِ. {وفي الأرض قطعٌ متجاوراتٌ وَجَنَّاتٌ من أعنابٍ وَزَرْع ونَخيلٍ صِنْوانٌ وغَيْرُ صنوانٍ يُسْقى بماءٍ واحدٍ ونُفَضِّلُ بعضَها على بعض في الأُكُلِ إنَّ في ذلك لآياتٍ لقوم يعقلونَ}.