ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النور (24) — آیت 29

لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ مَسۡکُوۡنَۃٍ فِیۡہَا مَتَاعٌ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۲۹﴾
تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں داخل ہو جن میں رہائش نہیں کی گئی، جن میں تمھارے فائدے کی کوئی چیز ہو اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔ En
ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو، تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے
En
ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائده یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناه نہیں۔ تم جو کچھ بھی ﻇاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ …:} یعنی ایسے مکان جو کسی کے رہنے کی جگہیں نہ ہوں اور ان سے تمھارا کوئی فائدہ یا کوئی ضرورت وابستہ ہو اور وہ ہر خاص و عام کے لیے کھلے ہوں تو ان کے اندر بلااجازت داخل ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، جیسے اسٹیشن، بسوں کے اڈے، مساجد، کھانے پینے اور رہائش کے ہوٹل، مسافر خانے، دکانیں اور وہ مہمان خانے جن میں جانے کی ایک دفعہ اجازت مل چکی ہو۔ اسی طرح وہ مکانات جو بے آباد، ویران اور اجڑے پڑے ہوں ان کے اندر آرام کر لینا، سایہ حاصل کرنا اور رات گزارنا وغیرہ جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن مکانوں میں آدمی کا کوئی فائدہ، مقصد یا ضرورت نہ ہو وہاں نہیں جانا چاہیے۔
➋ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے ظاہر اور پوشیدہ اعمال جانتا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ کسی جگہ جانے میں تمھاری نیت کیا ہے۔