ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 74

وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰکِبُوۡنَ ﴿۷۴﴾
اور بے شک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، یقینا اصل راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ En
اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ رستے سے الگ ہو رہے ہیں
En
بےشک جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وه سیدھے راستے سے مڑ جانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74){ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ:} یعنی سیدھے راستے سے ہٹنے کا اصل باعث آخرت پر ایمان کا نہ ہونا ہے۔ اگر پختہ یقین ہو کہ آخرت کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے تو ممکن نہیں کہ آدمی صحیح راستہ جاننے کے بعد غلط راستوں پر چلتا رہے۔