ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 40

قَالَ عَمَّا قَلِیۡلٍ لَّیُصۡبِحُنَّ نٰدِمِیۡنَ ﴿ۚ۴۰﴾
فرمایا بہت ہی کم مدت میں یہ ضرور پشیمان ہو جائیں گے۔ En
فرمایا کہ یہ تھوڑے ہی عرصے میں پشیمان ہو کر رہ جائیں گے
En
جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کئے پر پچھتانے لگیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40){ قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ: قَلِيْلٍ } کا معنی بہت کم ہے، اس کی قلت کی مزید تاکید کے لیے {عَنْ} کے ساتھ {مَا } کا اضافہ فرمایا ہے، یعنی بہت ہی کم مدت میں۔ (بقاعی)