ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 34

وَ لَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَکُمۡ اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
اور بلاشبہ اگر تم نے اپنے جیسے ایک بشر کا کہنا مان لیا تو یقینا تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو گے۔ En
اور اگر تم اپنے ہی جیسے آدمی کا کہا مان لیا تو گھاٹے میں پڑ گئے
En
اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری کر لی ہے تو بےشک تم سخت خسارے والے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34){ وَ لَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ …:} سورۂ قمر میں اسی قوم کے صالح علیہ السلام کے متعلق تحقیر سے بھرے ہوئے الفاظ ملاحظہ کریں، کہا: «{ فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ (24) ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ [القمر: ۲۴، ۲۵] پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں؟ یقینا ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔ کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔ اپنے مال و جاہ پر مغرور سرداروں نے سرداری خطرے میں دیکھ کر دنیا اور آخرت کی ذلت قبول کر لی، مگر بے شمار نشان دیکھنے کے باوجود رسول پر ایمان لا کر تابع ہونا قبول نہ کیا۔ سرداری کی آفات میں سے یہ سب سے بڑی آفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے رکھے۔