ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحج (22) — آیت 58

وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوۡۤا اَوۡ مَاتُوۡا لَیَرۡزُقَنَّہُمُ اللّٰہُ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۵۸﴾
اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں وطن چھوڑا، پھر قتل کر دیے گئے، یا مر گئے یقینا اللہ انھیں ضرور رزق دے گا اچھا رزق اور بے شک اللہ ہی یقینا سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔ En
اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مر گئے۔ ان کو خدا اچھی روزی دے گا۔ اور بےشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
En
اور جن لوگوں نے راه خدا میں ترک وطن کیا پھر وه شہید کر دیئے گئے یا اپنی موت مر گئے اللہ تعالیٰ انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 58) ➊ { وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} اس سے پہلے { فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } کے ساتھ عام مومنوں کا ذکر فرمایا تھا، اب ان میں سے خاص لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے اللہ کی خاطر اپنے وطن، گھر بار اور خویش و اقارب کو چھوڑا۔ مقصد ہجرت کی شان اور اس کی فضیلت بیان کرنا ہے کہ یہ اتنا عظیم عمل ہے کہ ہجرت کرنے والے جہاد فی سبیل اللہ میں قتل ہوں یا لڑائی کے بغیر فوت ہو جائیں، دار الکفر سے ہجرت کے بعد آخرت کے درجات میں برابر ہیں۔ (ابن عاشور) پہلی آیات سے اس کی ایک اور مناسبت یہ ہے کہ چونکہ مشرکین ان شیطانی شبہات اور رکاوٹوں کے ساتھ، جن کا اوپر ذکر ہوا، بہت سے لوگوں کو ایمان لانے سے روکتے تھے اور وہ روک صرف انھی کو سکتے تھے جو ان کے قابو میں ہوں، اس لیے اللہ سبحانہ نے ہجرت کی ترغیب دلائی اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ (بقاعی)
➋ { لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا:} لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں برزخ میں اور جنت میں رزق حسن ہر صورت دے گا۔ شہداء کے متعلق دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۶۹) اور ہجرت کے بعد فوت ہونے کے متعلق دیکھیے سورۂ نساء (۱۰۰)۔
➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ:} اللہ تعالیٰ خیر الرازقین ہے، اس لیے کہ (1) وہ کسی استحقاق کے بغیر رزق دیتا ہے۔ (2) مانگے بغیر دیتا ہے۔ (3) بے حساب دیتا ہے۔ (4) کسی سے فائدے کی امید یا کسی سے خوف کے بغیر دیتا ہے۔ (5) اور صرف وہی ہے جو اپنے پاس سے دیتا ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا اگر دیتا ہے تو اسی کا دیا دیتا ہے، سو حقیقت میں دینے والا وہی ہے۔ سب دینے والوں سے بہتر ان لوگوں کے لحاظ سے فرمایا جو دنیا میں ایک دوسرے کو کچھ دے دیتے ہیں، مگر ان میں { خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ } کی صفات میں سے ایک صفت بھی نہیں جو اوپر گزری ہیں۔