ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ طه (20) — آیت 72

قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ مَاۤ اَنۡتَ قَاضٍ ؕ اِنَّمَا تَقۡضِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۷۲﴾
انھوں نے کہا ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے ان واضح دلائل پر جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اس پر جس نے ہمیں پیداکیا ہے، سو فیصلہ کر جو تو فیصلہ کرنے والا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ تو اس دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرے گا۔ En
انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)
En
انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو تو جو کچھ کرنے وﻻ ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وه اسی دنیوی زندگی میں ہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 73،72){قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا …:} مگر جادوگروں کا ایمان تو ایک لمحہ میں اس قدر پختہ ہو گیا تھا کہ نہ ان کے دل میں مال و دولت اور دنیوی جاہ و منصب کی کچھ قدر باقی رہ گئی، جس کے لیے انھوں نے یہ مقابلہ کیا تھا اور نہ اب فرعون کی دھمکیوں کا ان پر کچھ اثر ہوا۔ چنانچہ انھوں نے کہا کہ تو اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہے کہ ہماری چند روزہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ کر دے؟ سو ہمیں اس کی پروا نہیں۔ مگر آج ایک شخص ساٹھ سال قرآن پڑھ کر بھی حقیر دنیا کے بدلے اپنے ایمان کو فروخت کر دیتا ہے۔