(آیت 1){طٰهٰ:} ظاہر یہی ہے کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں، کیونکہ یہ دونوں حرف دوسری جگہ مقطعات میں استعمال ہوئے ہیں، ”طا“ {”طٰسٓمّٓ“} (شعراء) میں اور ”ہا“ {”كٓهٰيٰعٓصٓ“ } (مریم) میں۔ مقطعات کی تفسیر کے لیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر دیکھیے۔ عبد الرزاق نے اپنی صحیح سند کے ساتھ قتادہ اور حسن کا قول نقل کیا ہے کہ{ ”طٰهٰ“ } کا معنی ہے {”يَارَجُلُ!“} اے آدمی! کیونکہ قبیلہ بنوعکّ میں یہ لفظ اس معنی میں بولا جاتا تھا، مگر پہلی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ قرآن مجید قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔