ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 80

وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً ؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ عَہۡدًا فَلَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ عَہۡدَہٗۤ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۰﴾
اور انھوں نے کہا ہمیں آگ ہر گز نہیں چھوئے گی مگر گنے ہوئے چند دن۔ کہہ دے کیا تم نے اللہ کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہے تو اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ En
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں
En
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف چند روز جہنم میں رہیں گے، ان سے کہو کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا کوئی پروانہ ہے؟ اگر ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرے گا، (ہرگز نہیں) بلکہ تم تو اللہ کے ذمے وه باتیں لگاتے ہو جنہیں تم نہیں جانتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) اس آیت میں یہود کی ہمہ گیر گمراہی کا بیان ہے، جس میں عوام اور علماء سبھی مبتلا تھے، یعنی ہم اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں، ہم چاہے کتنے بھی گناہ کریں جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے اور اگر ڈالے بھی گئے تو چند دن وہاں رکھ کر نکال لیے جائیں گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے کئی سوال کیے، ان میں سے ایک یہ تھا: [مَنْ أَهْلُ النَّارِ؟] آگ میں جانے والے کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم اس میں تھوڑی دیر رہیں گے، پھر اس میں تم ہماری جگہ لے لو گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِخْسَئُوْا فِيْهَا، لاَ نَخْلُفُكُمْ فِيْهَا أَبَدًا] تمھی اس میں دفع دوررہو، ہم اس میں کبھی تمھاری جگہ نہیں لیں گے۔ [بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب إذا غدر المشرکون …: ۳۱۶۹]
ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو یہودی کہا کرتے تھے کہ دنیا کی مدت صرف سات ہزار سال ہے اور لوگوں کو دنیا کے ایک ہزار سال کے بدلے میں آخرت کے صرف ایک دن کا عذاب ہو گا، تو یہ صرف سات دن ہیں، پھر عذاب ختم ہو جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً [ابن أبی حاتم بسند حسن: ۱؍۲۱۰] کچھ یہ کہتے تھے کہ جتنے دن ہم نے بچھڑے کی عبادت کی بس اتنے دن جہنم میں رہیں گے۔ [مصنف عبد الرزاق عن قتادۃ]