ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ مَا ہُمۡ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ۘ﴿۸﴾
اور لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، حالانکہ وہ ہرگز مومن نہیں۔ En
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے
En
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وه ایمان والے نہیں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8) ➊ اس سے پہلے پانچ آیات میں اہلِ ایمان اور دو آیات میں کھلے کافروں کے ذکر کے بعد منافقین کی خصلتوں کا ذکر تیرہ آیات میں فرمایا ہے، کیونکہ چھپا ہوا کفر زیادہ خطرناک اور اس کی پہچان بہت مشکل ہے۔
➋ { مَا } نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ہر گز کے ساتھ کیا گیا ہے۔