(آیت 8) ➊ اس سے پہلے پانچ آیات میں اہلِ ایمان اور دو آیات میں کھلے کافروں کے ذکر کے بعد منافقین کی خصلتوں کا ذکر تیرہ آیات میں فرمایا ہے، کیونکہ چھپا ہوا کفر زیادہ خطرناک اور اس کی پہچان بہت مشکل ہے۔ ➋ {”مَا“} نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ” ہر گز “ کے ساتھ کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
1 یہاں سے تیسرے گروہ یعنی منافقین کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جن کے دل تو ایمان سے محروم تھے مگر وہ اہل ایمان کو فریب دینے کے لئے زبان سے ایمان کا اظہار کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نہ اللہ کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ تو سب کچھ جانتا ہے اور اہل ایمان کو مستقل فریب میں رکھ سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے مسلمانوں کو ان کی فریب کاریوں سے آگاہ فرما دیتا تھا یوں اس فریب کا سارا نقصان خود انہی کو پہنچتا ہے کہ انہوں نے اپنی عاقبت برباد کرلی اور دنیا میں بھی رسوا ہوئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو (زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ”ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں۔“ حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
منافقت کی قسمیں ٭٭
دراصل نفاق کہتے ہیں بھلائی ظاہر کرنے اور برائی پوشیدہ رکھنے کو۔ نفاق کی دو قسمیں ہیں اعتقادی اور عملی۔ پہلی قسم کے منافق تو ابدی جہنمی ہیں اور دوسری قسم کے بدترین مجرم ہیں۔ اس کا بیان تفصیل کے ساتھ ان شاءاللہ کسی مناسب جگہ ہو گا۔ امام ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”منافق کا قول اس کے فعل کے خلاف، اس کا باطن ظاہر کے خلاف اس کا آنا جانے کے خلاف اور اس کی موجودگی عدم موجودگی کے خلاف ہوا کرتی ہے ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:270/1] نفاق مکہ شریف میں تو تھا ہی نہیں بلکہ اس کے الٹ تھا یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو زبردستی بہ ظاہر کافروں کا ساتھ دیتے تھے مگر دل میں مسلمان ہوتے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لائے اور وہاں پر اوس اور خزرج کے قبائل نے انصار بن کر آپ کا ساتھ دیا اور جاہلیت کے زمانہ کی مشرکانہ بت پرستی ترک کر دی اور دونوں قبیلوں میں سے خوش نصیب لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے لیکن یہودی اب تک اللہ تعالیٰ کی اس نعمت سے محروم تھے۔ ان میں سے صرف سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سچے دین کو قبول کیا تب تک بھی منافقوں کا خبیث گروہ قائم نہ ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں اور عرب کے بعض قبائل سے صلح کر لی تھی۔
غرض اس جماعت کے قیام کی ابتداء یوں ہوئی کہ مدینہ شریف کے یہودیوں کے تین قبیلے تھے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ بنو قینقاع تو خزرج کے حلیف اور بھائی بند بنے ہوئے تھے اور باقی دو قبیلوں کا بھائی چارہ اوس سے تھا۔ جب جنگ بدر ہوئی اور اس میں پروردگار نے اپنے دین والوں کو غالب کیا۔ شوکت و شان اسلام ظاہر ہوئی، مسلمانوں کا سکہ جم گیا اور کفر کا زور ٹوٹ گیا تب یہ ناپاک گروہ قائم ہوا چنانچہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا تو خزرج کے قبیلے سے لیکن اوس اور خزرج دونوں اسے اپنا بڑا مانتے تھے بلکہ اس کی باقاعدہ سرداری اور بادشاہت کے اعلان کا پختہ ارادہ کر چکے تھے کہ ان دونوں قبیلوں کا رخ اسلام کی طرف پھر گیا اور اس کی سرداری یونہی رہ گئی ۱؎۔ [صحیح بخاری:4566] یہ خار تو اس کے دل میں تھا ہی، اسلام کی روز افزوں ترقی میں لڑائی اور کامیابی نے اسے مخبوط الحواس بنا دیا۔ اب اس نے دیکھا کہ یوں کام نہیں چلے گا اس نے بظاہر اسلام قبول کر لینے اور باطن میں کافر رہنے کی ٹھانی اور جس قدر جماعت اس کے زیر اثر تھی سب کو یہی ہدایت کی، اس طرح منافقین کی ایک جمعیت مدینہ اور مدینہ کے آس پاس قائم ہو گئی۔ ان منافقین میں بحمدللہ مکی مہاجر ایک بھی نہ تھا بلکہ یہ بزرگ تو اپنے اہل و عیال، مال و متاع کو نام حق پر قربان کر کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے کر آئے تھے۔ «فرضى الله عنهم اجمعىن» سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں ”یہ منافق اوس اور خزرج کے قبیلوں میں سے تھے اور یہودی بھی جو ان کے طریقے پر تھے ۲؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:269/1] قبیلہ اوس اور خزرج کے نفاق کا ان آیتوں میں بیان ہے۔“ ابوالعالیہ، حسن، قتادہ، سدی رحمہ اللہ علیہم نے یہی بیان کیا ہے۔
پروردگار عالم نے منافقوں کی بہت سی بدخصلتوں کا یہاں بیان فرمایا۔ تاکہ ان کے ظاہر حال سے مسلمان دھوکہ میں نہ آ جائیں اور انہیں مسلمان خیال کر کے اپنا نہ سمجھ بیٹھیں۔ جس کی وجہ سے کوئی بڑا فساد پھیل جائے۔ یہ یاد رہے کہ بدکاروں کو نیک سمجھنا بھی بجائے خود بہت برا اور نہایت خوفناک امر ہے جس طرح اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ زبانی اقرار تو ضرور کرتے ہیں مگر ان کے دل میں ایمان نہیں ہوتا۔ اسی طرح سورۃ المنافقون میں بھی کہا گیا ہے کہ «إِذَاجَاءَكَالْمُنَافِقُونَقَالُوانَشْهَدُإِنَّكَلَرَسُولُاللَّـهِوَاللَّـهُيَعْلَمُإِنَّكَلَرَسُولُهُوَاللَّـهُ»۱؎[63-المنافقون:1] الخ یعنی ’منافق تیرے پاس آ کر کہتے ہیں کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ رسول اللہ ہیں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے‘ لیکن چونکہ حقیقت میں منافقوں کا قول ان کے عقیدے کے مطابق نہ تھا اس لیے ان لوگوں کے شاندار اور تاکیدی الفاظ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں جھٹلا دیا۔ اور سورۃ المنافقون میں فرمایا: «وَاللّٰهُيَشْهَدُاِنَّالْمُنٰفِقِيْنَلَكٰذِبُوْنَ»۲؎[63-المنافقون:1] یعنی ’اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ بالیقین منافق جھوٹے ہیں‘ اور یہاں بھی فرمایا: «وَمَاهُمبِمُؤْمِنِينَ»۳؎[2-البقرة:8] یعنی دراصل ’وہ ایماندار نہیں‘ وہ اپنے ایمان کو ظاہر کر کے اور اپنے کفر کو چھپا کر اپنی جہالت سے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دیتے ہیں اور اسے نفع دینے والی اور اللہ کے ہاں چل جانے والی کاریگری خیال کرتے ہیں۔ جیسے کہ بعض مومنوں پر ان کا یہ مکر چل جاتا ہے۔ قرآن میں اور جگہ ہے: «يَوْمَيَبْعَثُهُمُاللَّـهُجَمِيعًافَيَحْلِفُونَلَهُكَمَايَحْلِفُونَلَكُمْوَيَحْسَبُونَأَنَّهُمْعَلَىٰشَيْءٍأَلَاإِنَّهُمْهُمُالْكَاذِبُونَ»۴؎[58-المجادلة:18] یعنی ’قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ ان سب کو کھڑا کرے گا تو جس طرح وہ یہاں ایمان والوں کے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے اور سمجھتے ہیں کہ وہ بھی کچھ ہیں، خبردار یقیناً وہ جھوٹے ہیں‘۔ یہاں بھی ان کے اس غلط عقیدے کی وضاحت میں فرمایا کہ دراصل وہ اپنے اس کام کی برائی کو جانتے ہی نہیں۔ یہ دھوکہ خود اپنی جانوں کو دے رہے ہیں۔ جیسے کہ اور جگہ ارشاد ہوا: «اِنَّالْمُنٰفِقِيْنَيُخٰدِعُوْنَاللّٰهَوَھُوَخَادِعُھُمْ»۵؎[4-النساء:142] یعنی ’منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں حالانکہ وہ انہیں کو دھوکہ میں رکھنے والا ہے‘۔ بعض قاریوں نے «يَخْدَعُوْنَ» پڑھا ہے اور بعض «يُخَادِعُونَ» مگر دونوں قرأتوں کے معنی کا مطلب ایک ہی ہوتا ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو اور ایمان والوں کو منافق دھوکہ کیسے دیں گے؟ وہ جو اپنے دل کے خلاف اظہار کرتے ہیں وہ تو صرف بچاؤ کے لیے ہوتا ہے تو جواباً کہا جائے گا کہ اس طرح کی بات کرنے والے کو بھی جو کسی خطرہ سے بچنا چاہتا ہے عربی زبان میں «مُخَادِع» کہا جاتا ہے چونکہ منافق بھی قتل، قید اور دنیاوی عذابوں سے محفوظ رہنے کے لیے یہ چال چلتے تھے اور اپنے باطن کے خلاف اظہار کرتے تھے اس لیے انہیں دھوکہ باز کہا گیا۔ ان کا یہ فعل چاہے کسی کو دنیا میں دھوکا دے بھی دے لیکن درحقیقت وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیونکہ وہ اسی میں اپنی بھلائی اور کامیابی جانتے ہیں اور دراصل یہ سب ان کے لیے انتہائی برا عذاب اور غضب الہٰی ہو گا جس کے سہنے کی ان میں طاقت نہیں ہو گی پس یہ دھوکہ حقیقتاً ان پر خود وبال ہو گا۔ وہ جس کام کے انجام کو اچھا جانتے ہیں وہ ان کے حق میں برا اور بہت برا ہو گا۔ ان کے کفر، شک اور تکذیب کی وجہ سے ان کا رب ان سے ناراض ہو گا لیکن افسوس انہیں اس کا شعور ہی نہیں اور یہ اپنے اندھے پن میں ہی مست ہیں۔ ابن جریج رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ «لا الہ الا اللہ» کا اظہار کر کے وہ اپنی جان اور مال کا بچاؤ کرنا چاہتے ہیں، یہ کلمہ ان کے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوتا ۱؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:46/1] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان پر کچھ، دل میں کچھ، عمل کچھ، عقیدہ کچھ، صبح کچھ اور شام کچھ کشتی کی طرح جو ہوا کے جھونکے سے کبھی ادھر ہو جاتی ہے کبھی ادھر ۲؎۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:47/1]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
معلوم ہونا چاہیے کہ نفاق بھلائی کا اظہار کرنے اور باطن میں برائی چھپانے کا نام ہے۔ اس تعریف میں نفاق اعتقادی اور نفاق عملی دونوں شامل ہیں۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے اس فرمان میں اس کا ذکر فرمایا: ’آیَۃُالْمُنَافِقِثَلاَثٌ،اِذَاحَدَّثَکَذَبَوَاِذَاوَعَدَاَخْلَفَوَاِذَاائْتُمِنَخَانَ‘”منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔“(صحیح البخاری، الإيمان، باب علامات المنافق، حديث:33) ایک اور روایت میں آتا ہے ’وَاِذَاخَاصَمَفَجَرَ‘”جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔“ (حوالہ سابق،حديث:34)
رہا نفاق اعتقادی جو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے والا ہے۔ تو یہ وہ نفاق ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کو اس سورت میں اور بعض دیگر سورتوں میں متصف فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد تک نفاق کا وجود نہ تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں اہل ایمان کو غلبے اور فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔ پس مدینہ میں رہنے والے وہ لوگ جنھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، ذلیل ٹھہرے۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں نے خوف کی وجہ سے دھوکے کے ساتھ اپنا مسلمان ہونا ظاہر کیا تاکہ ان کا جان و مال محفوظ رہے۔ پس وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے درآنحالیکہ وہ مسلمان نہیں تھے۔
اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے ان منافقین کے احوال و اوصاف ان کے سامنے واضح کر دیے جن کی بنا پر وہ پہچان لیے جاتے تھے تاکہ اہل ایمان ان سے دھوکہ نہ کھا سکیں، نیز منافقین اپنے بہت سے فسق و فجور سے باز آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿یَحْذَرُالْمُنَافِقُوْنَاَنْتُنَزَّلَعَلَیْھِمْسُوْرَۃٌتُنَبِّئُھُمْبِمَافِیْقُلُوْبِھِمْ﴾ (التوبہ9؍64) ”منافق ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی ایسی سورت نہ نازل کر دی جائے جو ان کے دل کی باتوں سے مسلمانوں کو آگاہ کر دے۔“
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اصل نفاق کو بیان کیا اور فرمایا: ﴿ وَمِنَالنَّاسِمَنْیَّقُوْلُاٰمَنَّابِاللّٰهِوَبِالْیَوْمِالْاٰخِرِوَمَاهُمْبِمُؤْمِنِیْنَ ﴾”بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں“ کیونکہ یہ لوگ اپنی زبان سے ایسی بات کا اظہار کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ﴿ وَمَاهُمْبِمُؤْمِنِیْنَ﴾ کہہ کر انھیں جھوٹا قرار دیا، اس لیے کہ حقیقی ایمان وہ ہے جس پر دل اور زبان متفق ہوں، ان منافقین کا یہ اظہارِ ایمان تو اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان کو دھوکہ دینا ہے۔
(اَلْمُخَادَعَۃُ) ”دھوکہ“ یہ ہے کہ دھوکہ دینے والا شخص جس کو دھوکہ دیتا ہے اس کے سامنے زبان سے جو کچھ ظاہر کرتا ہے اس کے خلاف اپنے دل میں چھپاتا ہے تاکہ اس شخص سے اپنا مقصد حاصل کر سکے جسے وہ دھوکہ دے رہا ہے۔
پس منافقین نے اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان کے ساتھ اسی رویہ کو اختیار کیا تو یہ دھوکہ انھی کی طرف لوٹ آیا (یعنی اس کا سارا وبال انھی پر پڑا) اور یہ عجائبات میں سے ہے، کیونکہ دھوکہ دینے والے کا دھوکہ یا تو نتیجہ خیز ہوتا ہے اور اسے اپنا مقصد حاصل ہو جاتا ہے یا وہ محفوظ رہتا ہے اور اس کا نتیجہ نہ تو اس کے حق میں ہوتا ہے اور نہ اس کے خلاف۔ مگر ان منافقین کا دھوکہ خود ان کی طرف پلٹ گیا۔ گویا کہ وہ مکر اور چالبازیاں جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے تھے وہ درحقیقت اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے لیے کر رہے تھے، اس لیے کہ ان کے دھوکے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ اہل ایمان کو۔ پس منافقین کے ایمان ظاہر کرنے سے اہل ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، اظہار ایمان سے انھوں نے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیا اور ان کا مکر و فریب ان کے سینوں میں رہ گیا اس نفاق کی وجہ سے دنیا میں ان کو رسوائی ملی اور اہل ایمان کو قوت اور فتح و نصرت سے سرفراز ہونے کی وجہ سے وہ حزن و غم کی دائمی آگ میں سلگنے لگے۔ پھر آخرت میں ان کے جھوٹ اور ان کے کفر و فجور کے سبب سے ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا، جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت اور جہالت کی وجہ سے اس کے شعور سے بے بہرہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
واعلم أن النفاق هو إظهار الخير وإبطان الشر، ويدخل في هذا التعريف النفاق الاعتقادي والنفاق العملي؛ فالنفاق العملي؛ كالذي ذكر النبي - صلى الله عليه وسلم - في قوله: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا ائتمن خان»؛ وفي رواية «وإذا خاصم فجر».
وأما النفاق الاعتقادي المخرج عن دائرة الإسلام؛ فهو الذي وصف الله به المنافقين في هذه السورة وغيرها، ولم يكن النفاق موجوداً قبل هجرة النبي - صلى الله عليه وسلم - من مكة إلى المدينة ولا بعد الهجرة، حتى كانت وقعة بدر وأظهر الله المؤمنين وأعزهم؛ فذل - من في المدينة ممن لم يسلم، فأظهر الإسلامَ بعضُهم خوفاً ومخادعة؛ ولتحقن دماؤهم وتسلم أموالهم، فكانوا بين أظهر المسلمين في الظاهر أنهم منهم، وفي الحقيقة ليسوا منهم.
فمن لطف الله بالمؤمنين أن جَلا أحوالهم، ووصفهم بأوصاف يتميزون بها لئلا يغتر بهم المؤمنون، ولينقمعوا أيضاً عن كثير من فجورهم، قال تعالى: {يحذر المنافقون أن تنزل عليهم سورة تنبئهم بما في قلوبهم}؛ فوصفهم الله بأصل النفاق فقال: {وَمِنَ النَّاسِ مَن يقُولُ آمنَّا باللَّهِ وبِاليومِ الآخِرِ وَمَا هُم بمؤمنين}؛ فإنهم يقولون بألسنتهم ما ليس في قلوبهم فأكذبهم الله بقوله: {وما هُم بمؤمنين}؛ لأن الإيمان الحقيقي ما تواطأ عليه القلب واللسان، وإنما هذا مخادعة لله ولعباده المؤمنين، والمخادعة: أن يظهر المخادع لمن يخادعه شيئاً، ويبطن خلافه لكي يتمكن من مقصوده ممن يخادع، فهؤلاء المنافقون سلكوا مع الله وعباده هذا المسلك؛ فعاد خداعهم على أنفسهم، وهذا من العجائب ؛ لأن المخادع إما أن ينتج خداعه ويحصل له مقصوده أو يسلم لا له ولا عليه، وهؤلاء عاد خداعهم على أنفسهم ، فكأنهم يعملون ما يعملون من المكر لإهلاك أنفسهم وإضرارها وكيدها؛ لأن الله لا يتضرر بخداعهم شيئاً، وعباده المؤمنين لا يضرهم كيدهم شيئاً، فلا يضر المؤمنين أن أظهر المنافقون الإيمان؛ فسلمت بذلك أموالهم، وحقنت دماؤهم، وصار كيدهم في نحورهم، وحصل لهم بذلك الخزي والفضيحة في الدنيا، والحزن المستمر بسبب ما يحصل للمؤمنين من القوة والنصرة، ثم في الآخرة لهم العذاب الأليم الموجع المفجع بسبب كذبهم وكفرهم وفجورهم، والحال أنهم من جهلهم وحماقتهم لا يشعرون بذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔