یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جائو گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ وہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی؟ سن لو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔
En
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے
کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک تم پر وه حاﻻت نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔ انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے
En
(آیت 214) ➊ {”الْبَاْسَآءُ“} سے مراد فقر و فاقہ اور {”الضَّرَّآءُ“} سے مراد بیماری اور جسمانی تکالیف اور {”زُلْزِلُوْا“} کا مطلب ہے سخت ہلائے گئے۔ ➋ مدینہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو جب مشرکین، منافقین اور یہود سے سخت تکالیف پہنچیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی کہ دین کی راہ میں یہ مصیبتیں اور تکلیفیں صرف تم پر نہیں آ رہیں، بلکہ تم سے پہلے لوگ تو فقر و فاقہ، جانی و مالی نقصان اور سخت قسم کے خوف و ہراس میں مبتلا کیے گئے، یہاں تک کہ اس زمانے کا رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے ”اللہ کی مدد کب ہو گی“ پکار اٹھے۔ پھر جس طرح ان پر اللہ کی طرف سے مدد نازل ہوئی تمھاری بھی مدد کی جائے گی۔ چنانچہ جب غزوۂ احزاب میں یہ مرحلہ پیش آیا، جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب (۱۰، ۱۲) میں کھینچا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ یاد رہے کہ ان کا ”اللہ کی مدد کب ہو گی“ کہنا اعتراض اور شکوہ کے طور پر نہ تھا، بلکہ بے بسی کے عالم میں اپنی عاجزی اور زاری کی حالت کا اظہار تھا۔ (رازی، ابن کثیر) خَبّاب بن اَرَت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے نصرت کی درخواست نہیں کرتے، آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کرتے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”پہلے لوگوں میں سے ایک کے سر کی مانگ پر آرا رکھ دیا جاتا اور وہ اس کے قدموں تک پہنچ جاتا، مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت اور ہڈی کو الگ کر دیا جاتا، یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ کام ضرور مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہو گا یا اسے اپنی بکریوں سے متعلق بھیڑیے کا (خوف ہو گا)، لیکن تم ایسے لوگ ہو کہ بہت جلدی کرتے ہو۔“[شعب الإیمان للبیہقی: 240/2، ح: ۱۶۳۳۔ بخاری: ۳۶۱۲۔ ابن کثیر: 251/1]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں